Aser
ANNUAL STATUS OF EDUCATION REPORT
THE LARGEST CITIZEN LED HOUSEHOLD BASED INITIATIVE
ENGAGE WITH ASER
ASER Internship Opportunities | Volunteers
WELCOME TO ASER PAKISTAN BLOG

This is a forum for our research fellows and associates, as well as researchers in affiliated organizations and other institutions, to share their ideas and initiate discussions on interesting and pertinent socioeconomic issues. We invite the readers to engage with the researchers through the blog and provide their comments, feedback and queries for constructive debates on the issues discussed.

GO BACK    
Village Thotta, Muzaffarabad
Posted By Waqas Hameed Bajwa, Deputy Director Marketing & Partnership
ASERPAKISTAN

’’اثر کا رشتہ‘‘
دستک کے بعد دروازہ کھلتے ہی شفقت سے بھرپور آواز آئی ’’کون ہے باہر‘‘۔
ہم اثر پاکستان سے آئے ہیں۔
آپ لوگ تو پچھلے سال بھی آئے تھے۔ یہ جواب سنتے ہی اک نامعلوم سی خوشی کو اپنی رگوں میں دوڑتے ہوئے محسوس کیا۔ ’’جی ماں جی ہم لوگ اثر والے ہی ہیں‘‘۔
کشمیر کے پہاڑوں کے بیچوں بیچ جہلم اور نیلم کے سنگم پر واقع شہر مظفرآباد سے 12 کلومیٹر دور پہاڑ کی چوٹی پر واقع گاؤں ’’تھوٹا‘‘ قدرتی چشموں اور آبشاروں کی وجہ سے اپنی پہچان رکھتا ہے۔ یہ گاؤں ہمارے گاؤں ضیرست میں موجود تھا۔
اثر کا آج پانچواں دن ہے۔ تین دن کی ٹریننگ اور ایک دن کے سکول کی جانچ کے بعد آج ہم نے مقررہ گاؤں کے گھروں میں 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کی جانچ کرنی ہے۔
صبح تڑکے ہی سے تیاری اپنے عروج پر تھی۔ اثر کے رضاکار اکٹھے ہوئے سب کو ایک بار پھر یادہانی کرائی گئی کہ ہم نے گاؤں کے درمیان میں جاکر گاؤں کو چاروں حصوں میں تقسیم کرنا ہے اور ہر حصے سے پانچ گھروں میں جانا ہے۔ اپنے بائیں ہاتھ سے ہر پانچویں گھر میں دستک دینی ہے۔ ’’تھوٹا‘‘ گاؤں میں پہنچ کر احساس ہوا کہ اکتوبر 2005 کے زلزلے کی کچھ یادیں ابھی بھی باقی ہیں۔ گاؤں میں آنے کے بعد سب سے پہلے جس سے ملاقات ہوئی وہ اک کسان تھا اس سے بات چیت کرنے کے بعد اس بات کا احساس ہوا کہ وہ بھی پورے گاؤں کی طرح تعلیم کے بارے میں فکرمند ہے۔ اور اپنے گاؤں کے بچوں کی سیکھنے کی سطح کے بارے میں فکر مند تھا اور مزید اس پر بات بھی کرنا چاہتا تھا۔
جس گھر میں دستک دی وہاں سے اک شفیق اور نصف صدی پر محیط ماں جی سے ملاقات ہوئی۔ پچھلے سال ان کے گھر میں اثر رضاکار جاچکے تھے۔ باقی گاؤں کی طرح انہوں نے بھی بہت اچھے طریقے سے خوش آمدید کہا۔
ہمارے لئے یہ نئی بات تھی کو گاؤں کے لوگوں کو اثر رضا کاروں کا انتظار تھا اور اس سال وہ زیادہ فکر مند بھی تھے کے اس گاؤں کے بچوں کی سیکھنے کی استعداد کتنی ہے۔
میں بہت خوش تھا اور میرے لئے بہت بڑی بات تھی کہ اثر کے اثر کو ہوتے دیکھنا ۔ مقررہ وقت پر اس گاؤں میں سروے ختم کیا پورا گاؤں ہمیں سڑک پر چھوڑنے آیا۔ واپسی پر میں سارے راستے یہ سوچتا رہا کہ اثر کا بھی اک رشتہ ہے جو دن بہ دن مظبوط ہوتا جا رہا ہے۔

 
Disclaimer: The views expressed here are those of the authors and do not necessarily represent the views of ASER Pakistan.
 
Comments
   
Name: *
Email: *
Subject:
Your Message: *
GO BACK    
 
 
©  All Rights are Reserved to ASERPAKISTAN.ORG