Aser
ANNUAL STATUS OF EDUCATION REPORT
THE LARGEST CITIZEN LED HOUSEHOLD BASED INITIATIVE
ENGAGE WITH ASER
ASER Internship Opportunities | Volunteers
WELCOME TO ASER PAKISTAN BLOG

This is a forum for our research fellows and associates, as well as researchers in affiliated organizations and other institutions, to share their ideas and initiate discussions on interesting and pertinent socioeconomic issues. We invite the readers to engage with the researchers through the blog and provide their comments, feedback and queries for constructive debates on the issues discussed.

GO BACK    
Toba Tek Singh
Posted By سونیا صغیر
ASERPAKISTAN

سلطان پور گاؤں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں واقع ہے۔ جس کی کل آبادی 6000لوگوں پر مشتمل ہے ۔ گاؤں کے چاروں اطراف کھیت ہی کھیت تھے۔ مین روڈ سے لمبی سڑک انہی کھیتوں میں سے گھومتی ہوئی گاؤں کے اندر جا رہی تھی ۔ سڑک کے اطراف میں یہ لہلہاتے کھیت دلکش نظارہ پیش کر رہے تھے ۔
دن بارہ بجے کے قریب جب ہم گاؤں کے اندر داخل ہوئے تو وہاں پہلے سے موجود ہماری ٹیم کے دو رضا کار سروے کر رہے تھے۔ وہ ہمیں گاؤں کے اندر ایک گھر میں لے گئے جہاں ایک عورت اپنی 4بیٹوں اور ایک بیٹے کے ساتھ چار پائی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ ہمیں دیکھتے ہی وہ تھوڑا متجسس ہوئی ۔ لیکن جب ہم نے اپنا اور اثر کا تعارف کرایا اور بتایا کہ ہم کس غرض سے یہاں آئیں ہیں ، انہوں نے ہمیں بیٹھنے کے لئے کہا ۔ 
رضا کاروں نے بچوں کا جائزہ لینا شروع کیا تو وہ عورت جس کا نام رشیداں بی بی تھا۔بہت دلچسپی سے اپنے بچوں کا تعلیمی معیار دیکھنے لگیں۔ انہوں نے بتایا کہ میرے شوہر فوت ہوچکے ہیں ۔میں کھیتوں میں کام کرتیں ہوں اور بچیاں بھی کام میں ہاتھ بٹاتی ہیں۔بس ایک بیٹی اور چھوٹا بیٹا سکول جاتے ہیں ۔رشیداں بی بی کی سب سے بڑی بیٹی انعم نے بتایا کے ہم سب محنت کرتے ہیں تا کہ ہمارے دونوں چھوٹے بہن بھائی پڑھ سکیں اور ان کو ہماری طرح کھیتوں میں کام نہ کرنا پڑے ۔
انعم نے بتایا کہ اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن انعم کو دوسری جماعت میں ہی سکول چھوڑنا پڑا کیونکہ اسے گھر کے کاموں میں اپنی والدہ کا ہاتھ بٹانا ہوتا تھا۔ پھروالد کی وفات کے بعد انعم کو کھیتوں میں بھی کام کرنا پڑا۔ شام میں وہ سلائی بھی کرتی ہے تاکہ وہ اپنے گھر کا خرچ اٹھا سکے۔ انعم کی خواہش ہے کہ اس کے دونوں چھوٹے بہن بھائی پڑھ جائیں ۔ انعم کے اس جذبے اور قربانی نے ہم سب کو بہت متاثر کیا۔وہ سکول تو چھوڑ چکی تھی لیکن آج بھی وہ تعلیم کی اہمیت سے واقف تھی ۔ وہ بار بار اس بات پر زور دے رہی تھی کہ عورت کچھ بھی کر سکتی ہے۔ اگر عورت پڑھ جائے تو وہ پورے گھر کا مستقبل سنوار سکتی ہے۔ انعم کی اس سوچ پر سب نے اسکی حوصلہ افزائی کی اور اس کی محنت کو سراہا ۔انعم اور اس کے گھر والوں کو خدا حافظ کہتے ہوئے ہم اگلے گھر کی جانب بڑھے 

 
Disclaimer: The views expressed here are those of the authors and do not necessarily represent the views of ASER Pakistan.
 
Comments
   
Name: *
Email: *
Subject:
Your Message: *
GO BACK    
 
 
©  All Rights are Reserved to ASERPAKISTAN.ORG