Aser
ANNUAL STATUS OF EDUCATION REPORT
THE LARGEST CITIZEN LED HOUSEHOLD BASED INITIATIVE
ENGAGE WITH ASER
ASER Internship Opportunities | Volunteers
WELCOME TO ASER PAKISTAN BLOG

This is a forum for our research fellows and associates, as well as researchers in affiliated organizations and other institutions, to share their ideas and initiate discussions on interesting and pertinent socioeconomic issues. We invite the readers to engage with the researchers through the blog and provide their comments, feedback and queries for constructive debates on the issues discussed.

GO BACK    
Nankana Sahib (2)
Posted By Muhammad Azam Rana
ASERPAKISTAN

کہنے کو تو ذات پات جیسے تصورات کو ہندو معاشرے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اسلام میں ایسا کوئی تصور نہیں پایا جاتا ۔اللہ کے نزدیک سب برابر ہیں اور بڑائی کا معیار صرف تقویٰ ہے۔ لیکن پاکستان میں ذات پات اور برادری کے نام پر بہت ساری معاشرتی ناانصافیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ہمارے ہاں آج کے اس جدید دور میں بھی بچوں کو اپنا سوشل سٹیٹس ظاہر کرنے کے لئے تو تعلیم دلوائی جاتی ہے ناکہ انکا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے۔ ہمارے ہاں اگر کسی کے بچے سرکاری سکول میں جاتے ہیں تو اسے غریب سمجھا جاتا ہے عام طور پر خیال ہوتا ہے کہ غریب آدمی ہے بیچارہ فیس آفورڈ نہیں کرسکتا، دوسری طرف کھاتے پیتے لوگ بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ انکا بچہ آکسفورڈ سلیبس پڑھتا ہے۔

ادارۂ تعلیم و آگہی کے ایک سروے میں رضاکارانہ طور پر ضلع ننکانہ صاحب کے ایک گاؤں میں سروئر کی حیثیت سے جانا ہوا، اتوار کا دن تھا سکولوں سے چھٹی کے باعث بڑی چہل پہل تھی بچے گلیوں میں کھیلتے پھرتے تھے۔ جیسے کے ٹریننگ میں بتایا گیا تھا سیمپل سائز کے حساب سے ایک دروازے پر دستک دی۔ ایک بچہ باہر آیا اس سے معلومات لینی شروع کی اسکی والدہ بھی آگئی سوال جواب جاری تھے، پیچھے سے ایک آدمی ہمارے قریب آیا اور آتے ہی سوالات کی بوچھار کردی، کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کیا کرتے پھررہے ہو؟

اسکو تسلی بخش جوابات دیئے گئے اور یقین دہانی کرائی گئی کہ ہم کوئی بچے اغوا کرنے والے نہیں ہیں ہم تو بچوں کی تعلیم کا لیول دیکھ رہے ہیں۔ آنے والے نے بڑے تنزیہ لہجے میں کہا جن کے گھر آئے ہو ان بچوں کا لیول کیا ہونا ہے یہ تو سرکاری سکول میں جاتے ہیں، لیول دیکھنا ہے تو ہمارے گھر آؤ ہمارے بچوں سے سنو شہر جاتے ہیں انگلش سکول میں 1500 فیس ہے انکی۔


اسی گاؤں میں آگے 2 بھائی آمنے سامنے گھروں میں رہتے تھے ایک گھر سے معلومات لی جارہی تھی کہ سامنے والے گھر سے ایک آدمی برآمد ہوا چند لمحے کھڑا دیکھتا رہا بچے اثر ٹولز پڑھ رہے تھے آدمی نے کہا ’’میرے بچیاں کولوں وی سنو‘‘ اسے بتایا گیا کے اسکا گھر ہمارے سیمپل میں نہیں آتا آدمی تلخ ہونے لگا کہ میرے شریک کے بچوں سے سنا ہے تو میرے بچوں سے بھی سنو یہ زیادہ زہین ہیں۔


گورنمنٹ معیار تعلیم کی بہتری کے لئے جتنا مرضی زور لگائے جب تک عام لوگوں میں شعور پیدا نہیں ہوگا مسائل کا حل ہونا مشکل ہے۔

 
Disclaimer: The views expressed here are those of the authors and do not necessarily represent the views of ASER Pakistan.
 
Comments
   
Name: *
Email: *
Subject:
Your Message: *
GO BACK    
 
 
©  All Rights are Reserved to ASERPAKISTAN.ORG